Thursday, 3 January 2019

س سلسلے میں بے شمار لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کہ ہم کیسے سانچہ کو اردو میں کریں۔ورڈ پریس میں تو اردو میں کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن بلاگ اسپاٹ کے سانچہ کو اردو میں کرنا تھوڑا مشکل ہے۔آج اس تحریر میں بلاگ اسپاٹ کے سانچے کو اردو میں کرنے کے بارے میں کچھ بیان کیا گیا ہے۔
اردو میں تھیم کا تبادلہ کرنے کے لیئے آپ سب سے پہلے ڈیش بورڈ میں جائیں اس کے بعد Design کے ٹیب میں جائیں اور اب Edit Html پر کلک کریں۔
تھیم کے سانچہ کو تبدیل کرنے کے لیے آپ سب سے پہلے اپنے تھیم کا بیک اپ بنا لیں۔بیک اپ بنانا نہایت ہی آسان ہے،آپ کو اسی صفحہ میں Download Full Template لکھا ہوا نظر آئے گا۔اس پر کلک کریں تو ایک فائل آپ کے کمپیوٹر میں ڈاؤنلوڈ ہونا شروع ہوگی۔
اب اگلے مرحلے کے لیئے آپ کے پاس ایک ایسا سافٹ ویئر موجود ہونا ضروری ہے جس میں آپ xml فائل میں ترمیم آسانی کے ساتھ کرسکیں ، اس سلسلے میں بہترین سافٹ ویئر ہے نوٹ پیڈ پلس پلس۔ڈاؤنلوڈ کے لیئے یہاں کلک کریں۔
اب فائل میں ترمیم شروع کریں۔اس کے لیئے آپ کے کمپیوٹر میں جو فائل محفوظ ہوئی ہے اس فائل کو کاپی کریں اور پھر پیسٹ کردیں اب پیسٹ کی ہوئی فائل میں کام شروع کریں۔
میں نے ایک بلاگ اسپاٹ کا اپنا پہلے سے موجود سانچہ استعمال کیا ہے جس کا نام Ethereal ہے۔
یاد رکھیں آپ کے سانچہ کی سب سے پہلی لائن اس طرح ہونی چاہیئے ۔ اگر آپ کے سانچہ میں پہلی لائن ایسی نہیں تو آپ اس پہلی لائن کو ایسا بنا لیں۔
1<?xml version="1.0" encoding="UTF-8" ?>
اب آپ فانٹ کی تبدیلی کریں اس سلسلے میں آپ Font یا bodyfont لکھ کر تلاش کریں تو آپ کو کچھ اس طرح کا کوڈ نظر آئے گا۔
1<Variable name="body.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 13px Arial, Tahoma, Helvetica, FreeSans, sans-serif" value="normal normal 13px Arial, Tahoma, Helvetica, FreeSans, sans-serif"/>
اب آپ اس کوڈ نیچے والے کوڈ کے مطابق کر دیں۔
1<Variable name="body.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 13px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma" value="normal normal 13px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma"/>
اب بلاگ کے نام اور عنوانات کی تبدیلی کے لیئے آپ Blog Title لکھ کر تلاش کریں۔تلاش کے بعد آپ کو کچھ اس طرح کا کوڈ نظر آئے گا۔
1<Variable name="header.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 60px Times, 'Times New Roman', FreeSerif, serif" value="normal normal 60px Times, 'Times New Roman', FreeSerif, serif"/>
اس کوڈ کو آپ نیچے والے کوڈ کی طرح کردیں۔
1<Variable name="header.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 60px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma" value="normal normal 60px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma"/>
اب ہمیں تحریر کے عنوان کا فانٹ اردو میں کرنا ہے۔اس کے لیئے آپ Post Title لکھ کر تلاش کریں۔اب آپ کو کچھ اس طرح کا کوڈ نظر آئے گا۔
1<Variable name="post.title.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 24px Times, Times New Roman, serif" value="normal normal 24px Times, Times New Roman, serif"/>
اس کوڈ کے فانٹ کو تبدیل کردیں۔
1<Variable name="post.title.font" description="Font" type="font"
2default="normal normal 24px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma" value="normal normal 24px Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma"/>
اگر میں تمام فیلڈ کو یہاں شامل کردوں تو تحریر کچھ زیادہ ہی بڑھ جائے گی۔لہٰذا آپ تمام فیلڈ یا Values کو ان اردو فانٹ میں تبدیل کرتے جائیں۔
1Jameel Noori Nastaleeq,Alvi Lahori Nastaleeq,Alvi Nastaleeq,Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma
اب ہمیں بلاگ کے سانچہ کو اردو کی طرف موڑنا ہے اس سلسلے میں آپ startSide لکھ کر تلاش کریں۔اب آپ کو کوڈ کچھ اس طرح نظر آئے گا۔
1<Variable name="startSide" description="Side where text starts in blog language" type="automatic" default="left" value="left"/>
2<Variable name="endSide" description="Side where text ends in blog language" type="automatic" default="right" value="right"/>
اس کوڈ کو آپ نیچے والے کوڈ میں بدل دیں۔
1<Variable name="startSide" description="Side where text starts in blog language" type="automatic" default="right" value="right"/>
2<Variable name="endSide" description="Side where text ends in blog language" type="automatic" default="left" value="left"/>
اب سانچہ اردو میں نظر آنے لگے گا۔لیکن اب آپ body { لکھ کر تلاش کریں۔ اور body کے اسٹائل میں ان دو لائن کا اضافہ کریں۔
1line-height: 1.5em;
2direction: rtl;
اب آپ کا سانچہ مکمل اردو میں ہو گیا ہے سوائے widget کی انگریزی اور کچھ دیگر الفاظ کے آپ انہیں بھی بدل دیں۔کیونکہ ان کا تعلق کوئی خاص سانچہ سے نہیں۔اب آپ کا سانچہ مکمل اردو میں ہوگیا ہے۔

یہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہے

یہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہے یہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہے یہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےط یہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہے ط ط طیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہےیہ ایک ٹیسٹ پوسٹ ہے

عرصہ پہلے کی بات ہے کالج میں

عرصہ پہلے کی بات ہے کالج میں تعلیم کے دوران ایک مرتبہ اُردو میں تحریری مقابلوں کا انعقاد ہوا تھا ۔ دو مختلف عنوان دئے گئے تھے جن کی موافقت یا مخالفت میں مضمون تحریر کرنا تھا ۔ اب میرے ساتھی طلباء کی پریشانی یہ تھی کہ کسی کو کوئی خاص علم ہی نہیں تھا کہ مضمون لکھا کیسے جاتا ہے ؟
اُن دنوں رسائل میں میرے افسانے شائع ہونا شروع ہوئے تھے اور میں ایک افسانہ نگار کے طور پر اپنے دوستوں کے حلقے میں جانا جاتا تھا ۔ تو یار لوگوں نے یہ کہہ کر مجھے اسٹیج پر پہنچا دیا کہ مَیں مضمون لکھنے کے چند tips & tricks بتا دوں ۔ ہماری رگِ ظرافت جو پھڑکی تو ہم نے یوں بیان داغا :

دوستو ! مضمون نویسی کے سب سے آسان طریقے کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ پہلے قلم کو صحیح طریقے سے ہاتھ میں پکڑنا جان لیں ۔ (بعض دوستوں نے بھویں چڑھا لیں ۔۔۔) 
اس کے بعد آپ کو ایک سفید اور سادہ کاغذ ڈھونڈ کر اس پر اپنا سو فیصد قبضہ جمانا ہوگا۔ پھر یہ کریں کہ سیدھے ہاتھ کی جانب ایک انچ کی مارجن چھوڑ کر ایک خط کھینچ ڈالیں تاکہ کوئی لفظ غلطی سے بھی سرحد کے اُس پار جا نہ سکے ۔ پھر آپ کاغذ کے سب سے اوپر بسم اللہ لکھیں یا 786 ۔ اس کے بعد قلم کی نوک پر اپنی نظریں جما دیں اور مضمون کے عنوان پر غور و فکر شروع کر دیں ۔۔۔ دس منٹ بعد قلم کو حرکت دیں اور لکھتے چلے جائیں ، اور جیسے ہی کاغذ کی آخری سطر پر پہنچیں فوراً قلم کو لگام دیں (چاہے خیالات کا دریا آپ کے قلم کی روانی کو برقرار رکھنے کی کتنی ہی جان توڑ کوشش کیوں نہ کر لے) ۔۔۔ لیکن کاغذ کے ختم پر آپ تحریر بھی ختم کرکے بریکٹ میں ' ختم شد ' لکھ دیں ۔ لیجئے جناب ، آپ کا مضمون تیار ہے !! :00005: :00026:

اب خدارا یہ مت پوچھئے کہ اس بیان کے بعد میرا کیا حال کیا گیا؟؟ :00002:
وہ حال ابھی تک ع
یادِ ماضی عذاب ہے یارب 
کے مصرعہ کی تفسیر ہے ۔۔۔ :00016:
لہذا اِس دفعہ ذرا سنجیدگی اختیار کرنے کا ارادہ ہے !

مضمون نویسی کے لیے یقین جانئے کہ کسی خاص قابلیت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر آپ کا مطالعہ اور مشاہدہ اچھا ہے اور آپ میں کچھ نہ کچھ لکھنے کی تھوڑی سی بھی امنگ ہے تو بس بے فکر ہو جائیں ۔۔۔ آپ بھی جلد یا بدیر 'مضمون نگار' کے طور پر متعارف ہو جائیں گے ۔ چند پند سود مند کے مترادف یہاں میں اپنے ذاتی تجربات آپ سب سے شئیر کر رہا ہوں ۔۔۔۔ شائد کام آ جائیں ۔

>> سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کر لیا جانا چاہئے ۔ (بہتر ہے کہ مضمون کا عنوان بھی منتخب کر لیں )۔

>> جو موضوع منتخب کیا جائے ، اس کے بارے میں مختلف ذرائع سے مواد اکٹھا کریں ۔ دوستوں / بزرگوں کے خیالات سے ، اخبارات میں یا انٹرنیٹ پر اس موضوع پر شائع شدہ تحریروں کے تراشوں سے ، یا متعلقہ کتابوں سے بھی مدد لی جائے۔

>> مواد جمع ہو جانے کے بعد ہی لکھنے کی باری آتی ہے ۔ عموماً کسی بھی مضمون کے تین حصے ہوتے ہیں : دعویٰ ، دلیل اور نتیجہ !
جو معلومات آپ نے اکٹھا کی ہیں ، اس کو اختصار سے اور صاف صاف بیان کر دیا جائے۔ اس کے بعد ان دعووں کی دلیل کے طور پر اپنے نکتے ظاہر کیے جائیں ۔ آخر میں دعووں اور دلائل کو سمیٹتے ہوئے جو نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں ، اُن کو ضبط تحریر میں لائیں ۔

>> جہاں تک ہو سکے مضمون کے موضوع کی تائید یا مخالفت میں یک طرفہ خیالات کی پیش کشی سے گریز کیا جانا چاہئے۔ دونوں طرح کے خیالات کے اظہار سے ہی قلم کی مشق حاصل ہوتی ہے ۔

>> جتنا ممکن ہو سکے سادگی اور سلاست سارے مضمون میں قائم رکھی جائے ۔ اُلجھے ہوئے خیالات اور جذباتی شدت سے پرہیز کیا جانا چاہئے ۔

>> ہماری پوری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ صحیح اور درست زبان استعمال کی جائے ۔

>> ایک کامیاب مضمون نگار کی کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنی پوری تحریر میں ربط و ضبط کو برقرار رکھے اور پڑھنے والے کو محسوس ہو کہ لکھنے والے کی بات قابل فہم ہے !!

تعارفِ مضمون


مضمون نویسی اردو زبان کی ایک اہم صنف ہے۔ مضون مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں جن میں  علمی ، ادبی ، سیاسی ، تحقیقی اور مذہبی  جیسے اقسام کے مضامین شامل ہیں۔ سنجیدہ مضمون سے لیکر مزاحیہ مضمون کوئی بھی قسم ہو سکتی ہے اور  یہ سب کسی بھی مضمون کی نوعیت یا موضوع پر منحصر ہے۔ کوئی بھی موثر مضمون تحریر کرنے سے پہلے  مضمون نویسی کے اصولوں کا جائزہ لینا ضروری ہو گا۔ مضمون تحریر کرنے کے کچھ زریں اصول و قواعد ہیں ۔مناسب ہو گا اگر ان اصولوں کا درجات بندی کے تحت ایک جائزہ لیتے ہوئے ان کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ مندرجہ ذیل نکات ایک موثر مضمون تحریر کرنے سے پہلے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ 
تعارفِ مضمون
نفس مضمون یا متن
وجوہات
ٹھوس دلائل
اختتام
تعارف: چونکہ یہ مضمون کا ابتدائی حصہ ہوتا ہے تو اس میں موضوع مختصر اور جامع ہونا ضروری ہے۔ تعارف میں موضوع اس قسم کا ہونا چاہیئے جو شروع ہی سے پڑھنے والی کی توجہ اپنی طرف راغب رکھے اور قاری کی دلچسپی قائم رہے۔
نفس مضمون: یہ وہ حصہ ہے جس میں  تعارف کی بنیاد پر موضوع  کو بیان کیا جاتا ہے ، دراصل یہ حصہ مضمون کی روح کہلاتا ہے جس میں متن بیان کیا جاتا ہے اور اصل موضوع کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس حصے میں الفاظ یا جملوں میں کسی قسم کی تکرار موجود نہ۔ جملوں میں تکرار کے سبب  قاری کی توجہ کو زائل کرنے کا سبب ممکن  ہے لہذا اس سے پرہیز ضروری ہے۔ مواد عمدگی اور موضوع کے عین مطابق  پیش کیا جانا چاہیئے تاکہ موضوع اپنی مضبوطی قائم رکھے۔
وجوہات: اس حصے میں وجوہات مناسب ، شائستہ اور معقول ہونی ضروری ہیں اور مضمون کے عین مطابق بھی۔  
ٹھوس دلائل: دلائل  باقاعدہ تحقیق پر مبنی ہونے چاہیئں کیونکہ جس دور سے آج انسان کا تعلق ہے اس میں کسی بھی خبر کی تصدیق کرنا پلک جھپکتے ممکن ہے۔ لہذا اس امر کو ذہن میں رکھنا لازم ہے کہ دلیل مصدقہ ہو۔
اختتام: تمام دوسرے مندرجہ بالا عوامل پر طبع آزمائی کے بعد اس اختتامیہ حصے میں موضوع کے مطابق واضح نکات پیش کرنے کا پہلو بیحد اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ اپنا موقف واضح کرنا بھی ضروری ہے
مضمون نویسی کی صلاحیت گو کہ قدرتی خوبی ہے  اور دیکھا جاتا ہے کہ کچھ افراد اس کمی کو بیحد محسوس کرتے ہیں ۔ اگر کسی بھی کام کی مشق بار بار کی جائے تو ایسی کمی یا مشکل پر  با آسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔
کسی بھی موضوع کو تحریر کرنے کے لیئے انسانی مشاہدہ اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا قوتِ مشاہدہ وسیع اور گہرا ہونا ضروری ہے ۔ ذرائع ابلاغ سے گہرا تعلق اور کتب و رسائل اور اخبارات کا مطالعہ ہونا ایک اہم امر مانا جاتا ہے۔ صرف سن لینا یا پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر دسترس حاصل کرنا صرف مشق سے ہی ممکن ہے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ مختلف موضوعات پر وقتاً فوقتاً تحریر کرتے رہنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ مضمون کے اختتام پر جب سمجھا جائے کہ اب اس پر مذید لکھنے کی گنجائش  نہیں تو ازحد اہم پہلو ہے کہ مضمون پر نظر ثانی کی جائے اور الفاظ کی اصلاح و تصحیح کی جائے کیونکہ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے  کہ  صرف و ںحو اور جملوں میں غلطیاں مضمون  کی خوبصورتی کو ماند کر دیتی ہیں اور قاری کے تسلسل کو بے ربط اور بے مزہ کر دیتی ہیں۔